طالبات سڑکوں پر کیوں آتی ہیں
پھر کہتے ہیں طالبات سڑکوں پر کیوں آتی ہیں؟
آج حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب لال مسجد سے واپس جامعہ حفصہ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں گاڑی پر
فائرنگ کی گئ انکے گارڈز کو اٹھا کر لے گئے مولانا صاحب کو 12 بندوں نے گھیر کر انکو گرفتار کرنے کی۔کوشش
کی۔گئی مگر اللہ کی مدد سے وہ انکے ہاتھوں نکل کر جامعہ پہنچے ، جب یہ خاموش ہوتے ہیں پھر کیوں یہ سب بدمعاشیاں
ہوتی ہیں۔
آخر وجہ تو بتا سکتے ہیں نا کہ کس وجہ سے کررہے ہیں اور معلوم ہے وہ وجہ قرآن کی ترویج ہے دین کی اشاعت
ہے۔بجلی کبھی بند کی جاتی ہے کبھی بجلی کے بل لاکھوں کے حساب سے بھیج کر تنگ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی کوشش
کامیاب نہ ہو تو راستے میں روک کر گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے عالم دین کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے
ہیں۔ پھر ہمارے اپنے پرائے سب کہتے لڑکیاں روڈ پر کیوں نکلتی ہیں تم جانتے ہو ان لڑکیوں کے لیے یہ درویش
شخص سایہ شجر ہے یہ انکا روحانی باپ ہے، یہ ان لڑکیوں کا سائبان ہے۔
مگر یہاں کون بولے گا؟ کیوں بولے گا؟ زندہ شخص کی قدر نہیں جب یہ چلے جائیں گے اس دنیا کو چھوڑ کر
پھر یہی طعنے کسنے والے انکے جنازے کے پیچھے بھاگیں گے، یہی لوگ جو اج انکا ساتھ دینے سے کتراتے ہیں تب یہ
انکی تعریفوں کے کلمات پر مشتمل تحریریں چسپاں کرینگےمگر تم انکی انکی زندگی میں ساتھ نہیں دیتے تو نہ دوہم مولانا
کے ساتھ ہیں ان شاء اللہ اور رہیں گے تم سر پھرا کہو یا جتنے مرضی طعنے دودے لو طعنے ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہمارے
لیے ہمارا رب کافی ہے۔
ہٹ کر چلے ہم سے وہ جسے سر عزیز ہو
ہم سر پھروں کے ساتھ کوئی سر پھرا چلے
No comments:
Post a Comment